پیر، 3 مارچ، 2025

چھپی ہوئی صلاحیتوں کو ابھارنے اور اظہار کے مواقع کی فراہمی میں :آفاق کی کاوشیں یکتا اور منفرد ہیں

 بلوچستان کے بچوں میں چھپی ہوئی صلاحیتوں کو ابھارنے  اور اظہار کے مواقع کی فراہمی میں ایسوسی ایشن فار اکیڈمک کوالٹی :آفاق کی کاوشیں یکتا اور منفرد ہیں 

spech%20pati%204


آفاق پوری امت کی میراث ہے ، ہم ایک ایسے معاشرے کے قیام کے لئے کوشاں ہے

جہاں انسانیت کی قدرو منزلت ہو اور جہاں احساس ذمہ داری ہو ، عبدالنعیم
رند
آفاق کی ٹیم اپنے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے جو نمایاں خدمات سرانجام دے
رہی ہے وہ قابل ستائش ہے ،سیکرٹری کالجز ہائیر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن
بلوچستان حافظ محمد طاہر
آفاق تعلیمی معیار کی بلندی کے مشن پرعمل پیرا ہے ، ڈائریکٹر نصابیات
سعید احمد،آفاق کی ہر سرگرمی کا فوکس تعلیم کا فروغ ہوتا ہے ، ضلعی
ایجوکیشن آفیسر کوئٹہ سید نصیر شاہ
 آفاق کے زیراہتمام دو مہینوں پر مشتمل کوئز کمپی ٹیشن ، تقریری
مقابلوںاور دیگر معلوماتی سرگرمیوں پر مشتمل مقابلوںاور گرینڈ رزلٹ تقریب
کے احوال پر مشتمل خصوصی رپورٹ

3%20(1)


آفاق کے زیراہتمام نعتیہ مقابلے تین دن جارہے ، تقریری مقابلوں میں
106سکولوں کے204طلباءوطالبات
 نے حصہ لیا ، سیرت نبویﷺ پر مشتمل کوئز کمپی ٹیشن میں94سکولوں کے184طلبہ

شریک ہوئے ، سپلینگ مقابلوں
 میں106سکولوں کے204طلباءنے شرکت کی ، کھیلوں کے مقابلوں میں99سکولوں

کے220طلباءوطالبات
نے حصہ لیا مقابلوں کے اختتام پر گورنمنٹ سپیشل ہائی سکول میں گرینڈرزلٹ
اور تقریب تقسیم انعامات کا انعقاد کیا گیا
                          
چوہدری 
امتیازاحمد
 
بچوں پر توجہ دینے کے طریقے بچے کی ضروریات، دلچسپیوں اور صلاحیتوں کو
پروان چڑھاتے ہیں بچوں کی نفسیات کی ماہر سعدیہ اشفاق کا کہنا ہے کہ یہ
طریقے تعلیمی سرگرمیوں پرتوجہ مرکوزکراتے ہیں، ایک ایسے معاون ماحول کو
فروغ دیتے ہیں جہاں وہ تنقیدی سوچ کی مہارتوں کو دریافت، سوال اور ترقی
کر سکیںِبچے کی ضروریات پر توجہ مرکوز کریں اسباق اور سرگرمیوں کو ڈیزائن
کریں جو ہر بچے کے انفرادی سیکھنے کے انداز، دلچسپیوں اور صلاحیتوں کو
پورا کریںبچوں کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ تحقیق، سوالات، اور تجربات کے
ذریعے اپنے سیکھنے میں فعال طور پر حصہ لیں۔ اعتماد اور خود مختاری پیدا
کرنے کے لیے بچوں کو انتخاب اور ان کی تعلیم پر کنٹرول کا احساس دیں
جذباتی، سماجی اور جسمانی نشوونما کو بیک وقت سپورٹ کریں۔مثبت طریقے سے
بات چیت کی رہنمائی کرتے ہوئے ساتھیوں کے درمیان ٹیم ورک اور مواصلات کو
فروغ دیں۔ہر بچے کی خوبیوں اور کمزوریوں کے مطابق سبق بنائیں۔مخصوص
ضروریات کی نشاندہی کرنے اور اس کے مطابق ڈھالنے کے لیے جائزوں کا
استعمال کریں۔بچوں کو پراجیکٹس، تجربات اور مباحثوں میں آگے بڑھنے
دیں۔انکوائری پر مبنی سیکھنے کی حوصلہ افزائی کریں جہاں طلباءسوال پوچھتے
ہیں اور تحقیق یا کھوج کے ذریعے جواب تلاش کرتے ہیں۔طلباءکی دلچسپیوں کو
مربوط کرنے کے لیے نصاب کو ڈھالیں، سیکھنے کو مزید متعلقہ اور پرکشش
بنائیں۔بین الضابطہ سرگرمیاں شامل کریں جو مختلف مضامین کو مربوط کرتی
ہیں،تخلیقی صلاحیتوں، پڑھنے، سائنس اور کھیل کے لیے متنوع لرننگ اسٹیشنز
یا زونز کے ساتھ کلاس رومز ترتیب دیں،تنقیدی سوچ کی حوصلہ افزائی کے لیے
متعدد حل کے ساتھ سوالات یا مسائل پیش کریں۔صرف صحیح جوابات پر توجہ
مرکوز کرنے کے بجائے کوشش اور تخلیقی صلاحیتوں کو انعام دیں،تعمیری
آراءفراہم کریں جو ترقی کی حوصلہ افزائی کرتی ہے،طلباءکے لیے اپنے سیکھنے
پر غور کرنے اور ذاتی اہداف طے کرنے کے مواقع پیدا کریں،کھیل پر مبنی
طریقے استعمال کریں، خاص طور پر چھوٹے بچوں کے لیے، سیکھنے کو مزہ اور دل
چسپ بنانے کے لیے،دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے انعامات، پہیلیاں، یا
مقابلے جیسے گیمفائیڈ عناصر متعارف کروائیں،اس بات کو یقینی بنائیں کہ
سرگرمیاں تمام صلاحیتوں اور پس منظر کے بچوں کے لیے قابل رسائی ہوں۔کلاس
روم میں تنوع کی قدر کریں اور اس کا جشن منائیں،بچوں کے سیکھنے کے سفر
میں ان کا مشاہدہ کریں اور ان کی مدد کریں،۔ بچوں کی نفسیات کی ماہر کی
گفتگو پر مبنی انٹرو کا میرا مقصد صرف یہی ہے کہ والدین اور اساتذہ اور
بچوں کے درمیان باہمی روایتی تعلقات کو ماہر نفسیات کی ہدایات کی روشی
میں سنوارا جاسکے اسی سوچ میں تھا کہ مجھے آفاق بلوچستان کے ریجنل ہیڈ
عبدالنعیم رند کی جانب سے ایک ایسا دعوت نامہ موصول ہوا جس میں دو ماہ پر
مشتمل مقابلوں کے انعقاد کی اطلاع دی گئی تھی میںنے ان طویل مدتی مقابلوں
میں شرکت کی دعوت کو ایک عزاز سمجھتے ہوئے قبول کیا اور تمام مقابلوںمیں
شرکت کی ان مقابلوں کے آغاز سے اختتامی تقریب تک شرکت کے بعد میںنے فیصلہ
کیا کہ ماہرین نفسیات کی ہدایات اور آراءکی روشنی میںآ فاق کی جدوجہد اور
اہداف نیز آفاق کے طرز عمل کو اپنے قارئین تک پہنچاﺅں ۔
آفاق کے زیر اہتمام عقیدت علم و آگاہی و تفریح کے سفر کا آغاز 15ستمبر کو
نعتیہ مقابلے سے ہوا یہ مقابلے تین دن جاری رہے جن میں84سکولوں کے
151طلباءوطالبات نے حصہ لیا اور سرور کائنات حضرت محمد مصطفی ﷺ کی شان
میں نعتیہ اشعار پیش کئے اور عقیدت کا اظہار کیا ۔ میں ہوں امت کا
نواجوان کے عنوان پر23تا25ستمبر تک تقریری مقابلے ہوئے جس میں 106سکولوں
کے 204 طلبا و طالبات نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔28ستمبر کو سیرت نبوی ﷺپر
سوال وجواب کے مقابلے ہوئے جس میں 94سکولوں کے186طلبا وطالبات نے حصہ
لیا۔سپیلنگ کا مقابلہ یکم اکتوبر کو منعقد ہوا جس میں 106 سکولوں کے
204طلبا طالبات نے شرکت کی۔کھیلوں کے مقابلے 10اکتوبر کو 99سکولوں کے
220طلبا و طالبات میں ہوئے ۔ گرینڈ ریزلٹ اور تقریب انعامات کا انعقاد
گورنمنٹ اسپشل ہائی سکول میں کیا گیا۔تقریب میں 490 تعلیمی اداروں کے
1119 طلبا وطالبات نے اپنے اداروں کے پرنسپلز واساتذہ کے ہمراہ شرکت کی
۔(اپنی نوعیت کے اس منفرد ایونٹ کے آغاز سے اختتام تک کے انتظامات آفاق
کے ریجنیل ہیڈ عبدالنعیم رند کی قیادت میںاعجازاحمد راجپوت ڈپٹی مینجر
مارکینگ،حیدر علی اے ایس ایم، ملک عنایت دہوار ایڈیمن آفیسر،سیف الرحمان
اے ایس ایم،محمد فہیم اے ایس ایم،محمد صلاح دین اے ایس ایم،اور سپورٹنگ
سٹاف پر مشتمل ٹیم نے اپنی زمہداری کو ادا کرنے کے لیے زرا برابر کوتاہی
کا مظاہرہ نہیں کیا ) تقریب تقسیم انعامات سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی
سیکرٹری کالجز ، ہائیر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن حافظ طاہرنے کہا کہ نصابی
سرگرمیوں کے ساتھ غیر نصابی سرگیوں میں حصہ لینے والے طلبا و طالبات زہنی
اور جسمانی طور پر صحت مند رہتے ہیں یہ ذمہ اری حکومتی اداروں کی ہے مگر
میں

 شکرگزارہوںآفاق کے ریجنل ہیڈ عبدالنعیم رند اور ان کی ٹیم کا جو سرکار
کی زمہ داری کو اپنے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے انتہائی کامیابی اور
خوشاسلوبی کے ساتھ ادا کررہے ہیں،صوبائی دارلحکومت کوئٹہ کے لاکھوں بچوں
میں سے جن طلبا و طالبات نے ان مقابلوں میں حصہ لیا ہے انہوں نے اپنی
قابلت سے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ کوئٹہ کی کریم ہیں اور ان کے سکولز کے
اساتذہ اور انتظامیہ تعلیم کے ساتھ بہت مخلص ہیں، میں آفاق کو خیراج
تحسین پیش کرتے ہوئے ایک تجویز پیش کرتا ہوں کہ ان انعامات کی جگہ پر اگر
طلبا وطالبات کو کتابوں کے تحائف دیے جائیں تو ہر بچے کے گھر ایک لائبری
بنانے کا آغاز ہوجائے بچوں کو ملنے والی کتب ان کے گھر کے تمام افراد
پڑھیں گے اور اسطرح ایک کتاب دوست معاشرہ وجود میںآ ئے گا۔

ڈائریکٹرنصابیات سعید احمد نے کہا کہ آفاق اپنے قیام سے اب تک تعلیمی
میعار کو بلند کرنے کے اپنے مشن پر کامیابی سے عمل پیرا ہے اساتذہ کی
سکیل اپ گریٹ کرنے کے ساتھ جدید نصاب مرتب کر کے تعلیمی اداروں تک
پہنچانے کے ساتھ بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اظہار کے مواقع دے کر پالش
کرنا بڑے اہم کام ہیں یہ کام محکمہ تعلیم کے زمہ داروں کے ہیں حکومتی
اداروں کی مدد معاونت کرنے پر میں آفاق کے ریجنل ہیڈ عبدالنعیم رند ان کی
ٹیم کو سلام پیش کرتا ہوں ۔
 ضلعی ایجوکیشن افیسر کوئٹہ نصیر شاہ نے تقریب کے شرکا سے اپنے خطاب میں
کہا کہ میں زاتی طور پر اور سرکاری حیثیت سے آفاق کے ریجنل ہیڈ عبدالنعیم
ان کی متحرک ٹیم کو اس ایونٹ کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔آفاق
کی تمام سرگرمیوں کا فوکس بچے اور تعلیم کا فروغ ہوتا ہے۔محکمہ تعلیم
گورنمنٹ ماڈل ٹیکنکل ہائی سکول میں ٹریڈ سنٹر کا آغاز کررہا ہے جہاں
ٹیکنکل ایجوکیشن کے زریعے یوتھ کو باہنر بنایا جاے گا۔ سنٹر کے اوقات
طلبا کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوے بڑھاے جاسکتے ہیں۔یہاں تین ماہ کے
ڈپلومہ کورس کرواے جاہیں گے جسے کرنے کے بعد نوجوان اپناروزگار شروع
کرسکے گے نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں میں مصروفیت معاشرے میں مثبت تبدیلی
لاے گی۔انہوں نے کہا کہ پبلک اور پرا ¾ئیویٹ تعلیمی ادارے بچوں کوتعلیم
تو دے رہے ہیں مگر تربیت پر توجہ نہیں دی جارہی آج کے والدین بھی بچوں کی
تربیت کی اہمیت سے غافل نااشنا ہوچکے ہیں بغیر تربیت کے بچے بغیر سمت کا
تعین کیے منزل کی تلاش میںبھٹکتے معاشرے کے بگاڑ کا سبب بن رہے ہیں۔ہم سب
کو والدین ٹیچر طلبا کے باہمی رشتے کو مضبوط بناکر بچوں کو اچھا انسان
بنانا ہے۔
تقریب سے اپنے کلیدی اور انتہائی معلوماتی خطاب میں ریجنل منیجر آفاق
عبدالنعیم رند نے طلبہ وطالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی
دالحکومت کے لاکھوں بچوں میں سے آپ سب کا مختلف مقابلوں کے بعد آج کی
تقریب میں پہنچا بہت بڑا عزاز ہے یہ اعزاز آپ کے والدین کے لئے بھی ہے یہ
عزاز آپ کے اساتذہ اور سکول کے لئے بھی ہے اور سب سے بڑا عزاز آفاق اور
اس کی ٹیم کے لئے ہے۔انہوں نے کہا کہ پیارے بچوں اللہ تعالیٰ تعالی نے ہر
انسان کو الگ صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے تعلیمی اداروں پر پرائم ذمہ
داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے طلبا طالبات کی ظاہری اور چھپی ہوئی
صلاحیتوں کو اظہار کا ماحول اور مواقع فراہم کریں خدارا بچوں کو سلیبس
کاکیڑا نہ بنائیں کتاب سے باہر کی دنیا بھی دیکھائیں ۔پرانے طریقوں سے
پڑھانے کا دور گزر گیا اب رٹا نظام نہیں چلے گا دنیا بہت تیزی سے بدل رہی
ہے۔مستقبل کے چیلنجز سے اگاہی تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اساتذہ کے لیے
انتہائی ضروری اور لازمی ہے اساتذہ مستقبل کے چیلنجز سے اگاہ ہوگے تو وہ
اپنے طرز عمل تدریس کو اپ گریڈ کرتے ہوے نسل نو کو مستقبل کے لیے تیار
کریں گے۔آج کا دور مشکل دور ہے کیونکہ آج کے دور کی اکثر مائیں پیدا ہوتے
پی بچوں کے ہاتھ میں موبائل پکڑا کر اپنی پرورش اور تربیت کی زمہ داری سے
ٓآزاد ہوجاتیں ہیں۔اسی لیے بچوں کا زیادہ وقت موبائل یا ٹیبلٹ کی سکرین
دہکھتے گزرتا ہے جس سے بچے مختلف طرح کی کمزوریوں بیماریوں کا شکار ہورہے
ہیں والدین اور اساتذہ باہمی اشتراک سے بچوں کا سکرین استعمال کے اوقات
میں کمی لاسکتے ہیں بچوں کو قدرت کے اصلوں کے تحت زندگی گزارے کی راہ پر
لانا چلانا یہاں بیٹھے سبھی لوگوں کی زمہ داری ہے۔ انہوںنے کہا کہ مقابلے
میں جیت ہار کوئی معانی نہیں رکھتی
 اصل جیت مقالے کا حصہ بننے کے لئے خود کو ہمیشہ تیار رکھنا ہے ہمشہ مثبت
سوچ کے ساتھ آگے بڑھیں پوزیشن لینے والوں نے زیادہ محنت کی ہوگی اپنی
ناکامیوں سے سیکھیں۔ان مقابلوں میں حصہ لینے کے لئے آپ کی رہنمائی اور
معاونت کرنے والے والدین اساتذہ سکولز انتظامیہ کو خیراج تحسین پیش کرتا
ہوں۔آفاق پرنسپلز اساتذہ اور خاص طور پر بچوں کی تنظیم ہے اپ ہمارے دست
بازو بنیں ہم بچوں اساتذہ کی تربیت کے زریعے بلوچستان پاکستان کو ترقی
یافتہ ملک بنانا چاہتے ہیں۔ کوئٹہ شہر کے اندر اڑھائی لاکھ بچے بچیاں
پرائیوٹ سکولز کے اندر پڑھتے ہیں اڑھائی لاکھ کے قریب سرکاری تعلیمی
اداروں میں زیر تعلیم ہیں ساتھ مدارس کا پورا نیٹ ورک بھی موجود ہے جن
میں 2لاکھ بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں یوں 7لاکھ بچے بچیاں جو سکول جارہے
ہیں ۔ان سات لاکھ بچوں میں ایک 11سو بچوں بچیوں نے آفاق کے دوماہ کے طویل
مقابلوں میں شرکت کی یہ 1100لوگ وہ ہیں جو اس شہر کے مستقبل کی تعمیر
کرنے والے مستقبل کی تشکیل کرنے والے اور اس شہر کو مستقبل میں سنوارنے
والے ہیں اس لیے میں اپ سب بچوں بچیوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ اپ
نے آفاق کے مقابلوں میں حصہ لیا۔ہم نے جومقابلے کروائے ان کے اندر بھی
ورایٹی رکھی گئی طلباوطالبات کو ہم نے سیرت نبویﷺ کی کتابیں دیں کہ انہیں
پڑھیں سمجھیں اوراس کے بعد آپ خود اس سے ایک سوال نامہ بنائیں اور ان کے
جوابات ڈھونڈیںاس پیپر کو اک مرتبہ ہم نے بنایا پھرلاہور آفاق کے ہیڈ آفس
میں قائم ریسرچ ڈپارٹمنٹ نے ایک آن لائن پیپر بھجوایا پیپر کتاب کی بجاے
نصاب سے بنایا گیانگلش کے نصاب سے تین طرح کے پیپر بنائے گئے اس کے بعد
ان پرمزید کام کرکے انہیں مزید سہل اور آسان بنایاگیا پیپر دینے والے
بچوں سے پوچھا کہ پیپر کیساتھا ان کا جواب تھا کہ سر پیپر اسان تھا اس پر
مجھے بہت خوشی ہوئی سپلینگ مقابلے میں بھی بچوں نے بہت اچھے نمبر لیے
ہیں۔نعت کے مقابلے میں 140 بچے تھے ان کو ۔ 50 کے گروپ میں تین دن بلایا
گیا تین دن بچوں نے 5گھنٹے مسلسل نعتیں پڑھی، تین دن ہمارے ججز نے بہت
وقت دیا ان کا شکرگزار ہوں ججز کی مشاورت سے بچوں کی دلچسپی کو سامنے
رکھتے ہوے بچوں کی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کے لیے تین دن کی ورکشاپ
رکھنے کرنے کا فیصلہ کیا گیا 140بچوں کو دوبارہ بلوا کر تربیت کے ساتھ
پراکسٹ کروائیں گے۔ تقریر کے عنوان بھی بہت ریسرچ اور محنت کے بعد منتخب
کیا گیا کہ امت کے ہیں ہم نوجوان تاکہ بچے خود اپنے کردار کو اس تقریری
مقابلے کے عنوان کے مطابق ڈھال سکیں اور جان سکیں کہ ہم نے کیا بولنا ہے
عنوان کا تعلق ماضی حال مستقبل سے جوڑا ہواہے بہت سے سکولوں کی طرف سے
کہا گیا کہ اس عنوان پر مبنی مواد نیٹ پر دستیاب نہیں ہے تو ہم نے کہا کہ
یہ چلتا پھرتا نوجوان ہے امت کا اس لیے اسے خودی سوچنا چاہے کہ اس کی زمہ
داریاں کیا ہیں اسے خود احساس ہونا چاہے تاکہ وہ اپنی زندگی کا لائہ عمل
بناسکے کہ مجھے موجودہ حالات کے اندر کیا کرنا ہے جب امت تعلیم سے دور ہے
ریسرچ سے دور ہے امت مستقبل کے ویژن سے دور ہے اس لیے یہ عنوان دیا گیا
کہ نسل نو کے پاس ایک ویژن آجائے کہ اگر
 ہمارے ممالک اور حکمران کچھ نہیں کررہے حکومتیں کچھ نہیں کررہی تو بطور
ایک مسلمان امت کے نوجوان کے میری کیا زمہ داری بنتی ہے ہم اپنی زمہ
داروں کو ادا کرسکیں
 اس عنوان پر بہت خوبصورت تقاریر کی گئیں۔ میں اسپیشل سکول کے پرنسپل
محترم انور شاہوانی صاحب اور ان کی ٹیم کا دل کی گہرائی سے مشکور ہوں
جنہوں نے اپنا گراونڈ دینے کے ساتھ تقریب کے انعقاد میں بھوپور معاونت
کی،ہماری ٹیم اور ججز نے بچوں کی محنت کو انتہائی خوارد بین سے چیک کر
نتائج بنانے ہیں ہر مقابلے کے تین پوزیشن ہولڈرز کے ساتھ ایکسٹرا طور پر
اچھی کارکگدی کا مظاہرہ کرنے والے بچوں بچیوں کو انعامات اور شلیڈ سے
نوازایا گیا ہے ،پوزریشن لینے والوں کو شیلڈ زکے ساتھ نقد رقم کے انعامات
بھی دیے گئے ہیں
آفاق کی ٹیم نے اپنی پوری کوشش کی اگرچہ ہمارے پاس وسائل کم تھے وقت اور
افرادی قوت کی بہت کمی تھی لیکن ہماری ٹیم نے اپنے جزبے اورٹیم ورک کے
زریعے یہ کانامہ احسن طورپر سرانجام دے دیاہے۔آئندہ ہم آفاق لیڈرز کلب کے
ساتھ مل کر بڑے لیول پر شہر کے چارمقامات پر ہزار۔ہزاربچوں پر مشتمال
پروگرام منعقد کرائیں گےآاپ سب نے ان پروگرامز میں حصہ بھی لینا ہے تعاون
بھی کرنا ہے آفاق اس امت کی میراث ہے اب جب آپ کی میراث اور ملکیت ہے تو
آپ اس سے کتنافائدہ اٹھاسکتے ہیں یہ آپ پر منحصر ہے اپنے ادارے کی کپسٹی
بلڈنگ کروانا چاہتے ہیں بچوں کے کیریر کونسلنگ کے سیشن کروانا چاہتے ہیں
رابطہ کرلیں۔آفاق کے تمام پروگرامز کا بنیادی مقصد ایسا معاشرہ قائم کرنا
ہے جہاں انسانیت کی قدر ہو جہاں انسانیت کو عزت دی جاے جہاں نفرت نہ ہو
جہاں سکون ہو انصاف ہو ہم آہنگی ہو ہم ایک ویژن کے تحت کام کررہے ہیں صرف
کتاب بچے کے ہاتھ میں پکڑانا کتاب فروخت کرناہمارامقصد نہیں ہے اس کتاب
کے زیعے سے بچوں کے اندر کے اندرایک تڑپ پیدا کرنا ہے اس کے اندر معاشرے
کی اصلاح کرنے کا جزبہ پیدا کرنا ہے یہ کتاب ایک زریعہ ہے نالج منتقل
کرنا ہے تاکہ ہمارے بچے دنیا کولیڈ کرسکیں دنیا کی رہنمائی کرسکیں۔اس
حوالے سے علامہ اقبال کا ارشادہے
سبق پڑھ پھر صداقت کا عدالت کا شجاعت کالیا جاے گا تجھ سے کام دنیا کی
سربراہی کا،دنیا کو اندھروں سے نکالنے کی زمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے
اللہ تعالی ہم سے پوچھے گا کہ اپ نے دنیا کی جہالت کو ختم کرنے کے لیے
کیا کیاہے روشنی کتنی پھیلائی ۔
ڈائریکٹر سکولز اختر کھتران نے کہا کہ محکمہ تعلیم سکولز کی مدد اور
معاونت کرنے پر میں آفاق کے ریجنل ہیڈ ان کی ٹیم تمام بچوں اساتذہ
پرنسپلزکا شکر گزار ہوں ،میری آفاق کی ٹیم ایک ایک گزارش ہے کہ وہ نصابی
سرگرمیوں کے ساتھ کھیلیوں کے میدان میں بھی ہماری معاونت کریں، کیونکہ
ہمارے پاس غیر نصابی سرگرمیوں خصو صا کھیلوں کے لیے فنڈز اور ٹینکل لوگوں
کی کمی ہے میں افاق کی پوری ٹیم کو اس یہ کارہائے نمایا ں سرانجام دینے
پر دل کی گہرائی سے مبارک باد پیش کرتا ہوںِ
منیجرآ فاق لیڈرز کلب طیب فرید نے کہا کہ آفاق نے اپنے قیام سے اب تک
کبھی بھی بچوں کا ساتھ نہیں چھوڑا کرونا کی وبا میں بھی بچوں کا مکمل
ساتھ دیا انہیں نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں مصروف رکھا اسی وجہ سے
آفاق اور بچوں کی دوستی مضبوط تر ہوتی جارہی ہے۔کوئٹہ کے لاکھوں طلبا
وطالبات میں سے1100 بچوں کو جو 350سکولوں میں زیر تعلیم ہیں کو دو ماہ کے
مقابلوں کا حصہ بنانا ایک بڑا چیلنج اور کارنامہ ہے جو ہم نے پورا کیا
انہوںنے کہا کہ آفاق کے زیراہتمام بچوں کو اپنی صلاحیتوںکے اظہار کے
مواقع آئندہ بھی فراہم کئے جاتے رہیں گے 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad