کیا ہم واقعی مسلمان قوم ہیں؟ تو پر یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے ؟
ملک بھر میں فتنہ اور انتشار ، بے یقینی اور خوف کی فضاءہے،
مسز ثریا اللہ دیناخبار کی سرخیا خون آلود اور ٹی وی اور سوشل میڈیا کی ہیڈ لائین چونکا دینےmmt والی خبروں سے آراستہ ہیں۔
بلوچستان اور خیبر پختوں خواہ دونوں صوبے ایسے فتنے کی لپیٹ میں ہیں جیسے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوں اپنے ہی ہم وطنوں کو حقارت اور بیدردی سے کبھی بمب دھماکوں اور کبھی گولی کا نشانہ بنا کر اور انسان کی جان جو اللہ کی طرف سے اس کی امانت ہے پوری پوری بھری بسوں کو دھماکوں سے اڑا دیتے ہیں یا بے گناہ مزدوروں کو بس سے اتار کر گولیوں کی بوچھاڑ میں قیمتی جانے ایک لمہےُمیں ختم کردیتے ہیں ۔ ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں نہ ہی اس کا احترام کیا جاتا ہے ، تمام قانون نافظ کرنے والے ادارے ۔ پولیس ، لیویز، رینجرز، ایف سی اور وردی میں جوان کسی کو نہیں بخشتے ۔مٹھی بھر باغی ٹولے پوری قوم کے لئے درد سر ہیں،۔ سونے پہ سوہاگہ اب عوام نے بھی حکومت کی کمزوری کو بھاپ لیا ہے اور چھوٹے بڑے مطالبے کے لئے جگہ جگہ دھرنا دینا عام ہو چکا ہے یہی نہیں اب قومی شاراہوں اور ایک صوبے سے دوسرے صوبوں کو جانے والے مریض ،تاجر یا موت مرگ اور خوشی پر جانے والے سینکڑوں مسافر وں کو لوٹ لیا جاتا ہے بلکہ مار بھی دیا جاتا ہے، حیرت کی بات ہے کہ اندرون شہر وں ہیں پولیس اور انظامیہ کیوں بیے بس ہے اور ہائی وے اتھارٹی کیا آرام فرما رہی ہے ۔
فوجی جوان تو صرف ملک میں جنگ ہو تو شہروں میں آخری ہربے کے لئے بلائی جاتی ہے۔کوئی تو ملک کی خفاظت کی یقین دھانی کرائے۔ ہر صوبے کو آٹھارویں ترمیم کے بعد ترقیاتی فنڈ ملتے ہیں کبھی منتخب نمائندوں سے اس کا حساب کیوں نہیں لیا جاتا لاء اینڈ آڈر کے لئے بھی فنڈز کی کمی نہیں۔ اگر ہے تو احتساب کی کمی ہے یعنی تنخواہ دار سے اس کے کام کی بہتر آگائی اور عمل درآمد کا حساب کون لیگا؟
پونی صدی گزرجانے کے بعد بھی ہمارے نوجوان مرد اور خواتین بے روزگار کیوں ہیں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بی اے ایم اے کرا لیاُجاتا ہے لیکن ان کی ابتدائی رانمائی کا فقدان ہے ، محکمہ تعلیم میں نہ میرٹ پر بھرتیاں کبھی ہوئیں اور نہ ہی قابل استاد زیادہ عرصہ ٹک سکے کیونکہ شفارشی افراد یا رشوت دیکر نااہل بھرتی کئے جاتے ہیں۔ ہر محکمے میں یہی حال ہے ہتہ کہ وزیر صاحبان بھی اپنے رشتہداروں یا منپسند افراد کو رکھوا کر اچھے افسروں کو او ایس ڈی کرادیتے ہیں،
شکائتوں کے عمبار لگا سکتی ہوں لیکن صرف شکایت اس کا حل وقتیتو ہو سکتا ہے، پائدار نہیں۔
حال ہی میں امریکہ کے صدر ٹرمپ نے ہزاروں سرکاری ملازمیں کو نہ صرف فارغ کر دیا ہے بلکہ ایک بہتر حل نکالا ہے، تمام سرکاری ملازمیں جس شعبے سے بھیان کا تعلق ہو اسے ہفتے کے کام کی رپورٹ دینی ہوگی کہ اس نے ملک کے لئے کون کونسا کام ان دنوں میں کیا اور کیسے بہتری لائی جاسکتی ہے ورنہ وہ خزانے پر بوج ہیں۔فارغ۔
شاید پاکستان کو بھی ٹرمپ کی تقلید اور اس پر عمل در آمدکرنا ہوگا ورنہ ہمارا ملک تو ہمیشہ کا قرضدار ہے یو ایس ایڈ بھی اب بند ہو چکی ہے لہازہ سب کو اپنے عمل کا حساب چکانا ہو گا،خاص طور پر پولیس اور ایڑمنسٹریشن کو متحرک ہوناضروری ہےجب تک عوام مطمعن نہ ہو اور قانون پر عمل درآمد یقینی نہیں بنائیں گے ،روڈ بلاک اسی طرح ہونگے اور نہ مسجد میں دھماکے اورسر آم شہادتیں نہیں رکیں گی۔
میری دعا ہے کہ رمضان کے با برکت مہینے میں ہمیں اپنی اصلاح کی اللہ توفیق عطا کرےاورہم سب اپنے گردار پر نظر دوڑائیں اور احساس ذمہ داری سے کار سرکار اور تجارت میں ایمانداری کو اپناتے ہوئے اپنے لئے اور اپنے ملک کے لئے اپنے خاندان کیلئےوفادار ثابت ہوں۔اور ہم باعزت قوم کہلائیں۔
پاکستان زندہ باد۔
مسز ثریا اللہ دین
۱/۳/۲۵
،
ا
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں